پاکستان میں انگور اگانا اتنا مشکل نہیں جتنا لوگ سمجھتے ہیں۔ ایک انگور کا پودا، یعنی انگور کی بیل، لاہور کے کسی صحن، دیوار یا چھت پر ٹھیک سے چڑھا دی جائے تو ہر گرمی میں میٹھے گچھے بھی دیتی ہے اور نیچے بیٹھنے کو ٹھنڈی چھاؤں بھی۔ یہ بیل (Vitis vinifera) ہماری گرم، خشک بہار میں خوب پھلتی ہے، اسے بس ہماری برسات نہیں بھاتی۔

لاہور میں انگور اگانا: برسات والا اصول

یہاں بیل پر مارچ اپریل میں پھول آتے ہیں اور مئی کے آخر سے جون تک دانے پکتے ہیں۔ لاہور میں مون سون عموماً جولائی کے پہلے ہفتے میں پہنچتا ہے، اور گرم، گیلا، حبس والا موسم انگور کی پھپھوندی کو سب سے زیادہ راس آتا ہے۔ پکے دانوں پر بارش پڑے تو وہ پھٹ بھی جاتے ہیں اور مٹھاس بھی پھیکی پڑ جاتی ہے۔ محکمہ زراعت پنجاب بھی صاف کہتا ہے کہ وسطی اور شمالی پنجاب انگور کے لیے موزوں ہیں، مگر پکنے کے دنوں میں لمبی برسات فصل خراب کر سکتی ہے، اس لیے یہاں صرف جلدی پکنے والی اقسام کامیاب ہوتی ہیں۔

اسی لیے اسلام آباد کے قومی زرعی تحقیقاتی مرکز (NARC) کے ماہرین پنجاب کے لیے جلدی پکنے والی اقسام تجویز کرتے ہیں، جیسے پرلیٹ (Perlette، سبز)، کنگز روبی (King's Ruby، سرخ) اور فلیم سیڈلیس (Flame Seedless)، جو جون کے آخر تک اتر آتی ہیں۔ بلوچستان کے مشہور سندر خانی اور کشمشی انگور کوئٹہ کے آس پاس اگتے ہیں، جہاں برسات کا جھنجھٹ ہی نہیں۔ رہی ہماری انگور کی بیلوں کی بات، تو ہم انہیں کسی خاص قسم کے نام سے نہیں بیچتے؛ اگر آپ کے لیے قسم اہم ہے تو واٹس ایپ پر ہمیں پیغام بھیجیں اور فارم پر اس وقت موجود بیلوں کے بارے میں پوچھ لیں۔ دیکھ بھال بہرحال وہی ہے جو نیچے لکھی ہے۔

دھوپ، سہارا اور انگور کا پودا لگانے کا صحیح وقت

بیل کو کم از کم 6 سے 8 گھنٹے سیدھی دھوپ دیں؛ دھوپ ہی کھٹے دانوں کو میٹھا کرتی ہے۔ اور پہلے دن سے اسے چڑھنے کو سہارا بھی چاہیے:

  • پرگولا یا پورچ کا ڈھانچہ: صحن والی وہی پرانی روایتی بیل، گرمیوں میں گھنی چھاؤں اور سردیوں میں پتے جھڑنے کے بعد دھوپ۔
  • چاردیواری: تقریباً 45 سینٹی میٹر (18 انچ) کے فاصلے سے تین آڑی تاریں، دیوار سے 10 سے 15 سینٹی میٹر ہٹا کر، تاکہ پتوں کے پیچھے ہوا چلتی رہے۔
  • چھت پر جنگلا: کسی بڑے گملے یا اینٹوں کی کیاری کے اوپر لوہے کے پائپ کا ڈھانچہ، جو گرمیوں کی آندھی کے لیے مضبوطی سے گڑا ہو؛ تفصیل ہماری چھت اور بالکونی پر باغبانی کی گائیڈ میں ہے۔

کب لگائیں: روایتی وقت سردیوں کا ہے، دسمبر سے فروری کے وسط تک، جب بیل پتوں کے بغیر سوئی ہوتی ہے؛ محکمہ زراعت پنجاب کا مشورہ ہے کہ کلیاں پھوٹنے سے پہلے 15 فروری تک لگائی مکمل کر لی جائے۔ نرسری کے گملے میں پہلے سے اگتی بیل ذرا پہلے، گرمی ٹوٹتے ہی وسط اکتوبر سے لگائی جا سکتی ہے، تاکہ سردی سے پہلے جڑیں جم جائیں۔ بس مئی جون کی تپش میں نہ لگائیں۔

زمین میں لگائیں یا گملے میں

انگور مٹی کے معاملے میں نخرے نہیں کرتا، مگر جڑوں میں کھڑا پانی اسے بالکل پسند نہیں، اور لاہور کی بھاری مٹی پانی روک لیتی ہے۔ تقریباً 2 فٹ (60 سینٹی میٹر) چوڑا اور اتنا ہی گہرا گڑھا کھودیں اور مٹی میں ایک تہائی گلی سڑی کمپوسٹ یا پرانی گوبر ملا دیں (تازہ گوبر ہرگز نہیں)؛ مٹی چکنی ہو تو تھوڑی موٹی ریت بھی۔ بیل اتنی ہی گہرائی پر لگائیں جتنی وہ گملے میں تھی، گہرا پانی دیں، اور تنے کو ایک ڈنڈے سے باندھ دیں جو اوپر سہارے تک جاتا ہو۔ دیوار کے ساتھ بیلیں 2 سے 3 میٹر (7 سے 10 فٹ) کے فاصلے پر لگائیں۔

گملے میں: کم از کم 18 انچ کا گملا لیں، 24 انچ چوڑا اور گہرا ہو تو بہتر، اور اس میں فریم گاڑ دیں۔ مٹی تقریباً آدھی باغ کی مٹی، چوتھائی کمپوسٹ اور چوتھائی موٹی ریت رکھیں، اور پتلے کالے پلاسٹک کے بجائے مٹی یا سیمنٹ کا گملا لیں، کیونکہ گرم چھت پر کالا پلاسٹک جڑوں کو پکا دیتا ہے۔ گملے کی بیل زمین والی سے کم پھل دیتی ہے، مگر دیتی ضرور ہے؛ پانی اور کھاد کے لیے ہماری گملوں اور چھوٹی جگہوں کے لیے پھل دار پودوں کی گائیڈ دیکھیں۔

بیل کو سدھانا اور سردیوں کی کانٹ چھانٹ، آسان الفاظ میں

یہ کام چھوڑ دیں تو بیل پتوں کا جنگل بن جاتی ہے جس پر بس چند چھوٹے، کھٹے گچھے لٹکتے ہیں۔ سیدھی بات یہ ہے کہ انگور اسی سال کی نئی شاخوں پر لگتا ہے، جو پچھلے سال کی لکڑی کی آنکھوں سے پھوٹتی ہیں، اس لیے سردیوں کی ڈٹ کر کی گئی کانٹ چھانٹ ہی پھل دلواتی ہے:

  1. پہلا سال: سب سے تگڑی شاخ ڈنڈے کے ساتھ سیدھی اوپر باندھ دیں؛ یہی تنا بنے گی۔ نیچے کی باقی شاخیں توڑ دیں، اور پھول آئیں تو وہ بھی اتار دیں تاکہ پودا اپنی طاقت جڑوں پر لگائے۔
  2. پہلی جنوری: تنے کو پکی، پنسل جتنی موٹی لکڑی تک کاٹ دیں، اس جگہ سے ذرا نیچے جہاں سے بیل کو پھیلانا ہے، جیسے پہلی تار یا پرگولا کے کھمبے کا سرا۔
  3. دوسرا سال: تنے کے سرے سے دو شاخیں تار پر ایک دائیں اور ایک بائیں لے جائیں، یا پرگولا پر پھیلا دیں۔ یہی بیل کے مستقل بازو ہیں۔
  4. اس کے بعد ہر جنوری: بازوؤں پر پچھلی گرمیوں کی ہر شاخ کاٹ کر 2 سے 3 آنکھوں والا ٹکڑا چھوڑ دیں، تقریباً ایک ہاتھ کے فاصلے سے، اور سوکھی اور الجھی لکڑی نکال دیں۔ انہی آنکھوں سے نکلی نئی شاخوں پر گچھے لگیں گے۔

کانٹ چھانٹ تب کریں جب بیل ننگی ہو کر آرام کر رہی ہو، اور فروری میں کلیاں پھولنے سے پہلے کام نمٹا لیں۔ اگر چھوٹی کٹائی کے بعد بھی گچھے کم آئیں تو ہو سکتا ہے آپ کی قسم شاخ پر ذرا آگے جا کر پھل دیتی ہو؛ اگلی سردی ایک دو شاخیں 6 سے 8 آنکھوں کے ساتھ چھوڑ دیں۔

سال بھر پانی اور خوراک

  • دسمبر سے جنوری: بیل آرام میں ہے؛ پانی تبھی دیں جب مٹی چند انچ نیچے تک سوکھ جائے۔
  • فروری سے اپریل: کانٹ چھانٹ کے بعد جڑ کے گرد کمپوسٹ یا گلی سڑی گوبر بکھیر دیں اور باقاعدہ پانی دیں۔ پھولوں کے دنوں میں مٹی یکساں نم رہے، مگر پانی کھڑا نہ ہو۔
  • اپریل سے مئی: دانے موٹے ہو رہے ہیں اور بیل پیاسی ہے، اس لیے گہرا پانی دیں؛ چھت کے گملے کو مئی میں شاید روز۔ پوٹاش والی پھل کی کھاد فائدہ دیتی ہے، جبکہ یوریا جیسی نائٹروجن والی کھاد سے پھل کی جگہ پتے ہی پتے ملتے ہیں۔
  • مئی کے آخر سے جون: جیسے ہی دانے نرم ہو کر رنگ بدلیں، پانی کم کر دیں؛ اب زیادہ پانی مٹھاس پھیکی کرتا ہے اور دانے پھاڑتا ہے۔ ہاں، 45 ڈگری میں گملے کو تھوڑا تھوڑا اور یکساں پانی دیتے رہیں، بس ایک دم ڈھیر سارا نہیں۔
  • جولائی سے نومبر: زیادہ کام بارش کر دیتی ہے، بس نکاسی کا خیال رکھیں۔

مسئلے: پھپھوندی، پرندے، بھڑیں اور پھٹتے دانے

  • پاؤڈری ملڈیو (سفوفی پھپھوندی): بہار میں پتوں اور کچے گچھوں پر سفید، آٹے جیسی تہہ۔ بیل کو کھلا رکھیں: گھنی شاخیں کم کریں، ہر شاخ کا سرا آخری گچھے سے دو ایک پتے آگے توڑ دیں، اور گچھوں کے آس پاس سے چند پتے ہٹا دیں۔ زرعی دکان سے سلفر والی دوا مل جاتی ہے، مگر اسپرے صبح سویرے ٹھنڈے وقت کریں، کیونکہ 30 ڈگری سے اوپر سلفر پتے جلا سکتی ہے۔
  • ڈاؤنی ملڈیو: پتوں کے اوپر زردی مائل، چکنے سے دھبے اور نیچے سفید روئیں، زیادہ تر برسات کے حبس میں۔ پتوں کو بچائیں: خراب پتے توڑ دیں، پانی پتوں پر نہیں بلکہ جڑ میں دیں، اور بیل کو ہوادار رکھیں۔
  • پرندے اور بھڑیں: بلبل، مینا اور بھڑیں پکے انگور آپ سے پہلے ڈھونڈ لیتی ہیں۔ دانے رنگ پکڑنے لگیں تو ہر گچھے پر کاغذ، جالی یا ململ کی تھیلی باندھ دیں؛ پلاسٹک کی تھیلی ہرگز نہیں، اس میں پھل گل جاتا ہے۔
  • ملی بگ (گدھیڑی): ڈھیلی چھال کے نیچے اور گچھوں میں سفید، روئی جیسے کیڑے، جن کی اکثر چیونٹیاں رکھوالی کرتی ہیں۔ سردیوں میں ڈھیلی چھال کھرچ دیں، کیڑوں کو پانی کی تیز دھار یا نیم کے تیل کے اسپرے سے دھو دیں، اور چیونٹیوں کو تنے پر نہ چڑھنے دیں۔
  • پھٹتے دانے: خشک دنوں کے بعد زور کی بارش یا ایک دم بہت سا پانی پکے دانے پھاڑ دیتا ہے، پھر ان پر بھڑیں آتی ہیں اور وہ سڑ جاتے ہیں۔ یکساں پانی، جلدی توڑائی اور تھیلیاں، تینوں کام آتی ہیں؛ یہی اصول ہماری انجیر اگانے کی گائیڈ میں انجیر کو پھٹنے سے بچاتا ہے۔

کتا پالنے والوں کے لیے ایک ضروری بات: انگور اور کشمش کتوں کے لیے زہریلے ہیں، تھوڑی مقدار میں بھی، اس لیے بیل کے نیچے گرے دانے اٹھاتے رہیں اور اپنے کتے کو انگور نہ کھلائیں۔

عام سوالات

لاہور میں انگور لگانے کا بہترین وقت کون سا ہے؟

دسمبر سے فروری کے وسط تک، جب بیل سوئی ہوئی ہو؛ محکمہ زراعت پنجاب 15 فروری تک لگائی مکمل کرنے کا مشورہ دیتا ہے۔ نرسری کے گملے میں پہلے سے اگتی بیل وسط اکتوبر سے بھی لگائی جا سکتی ہے۔

کیا میں چھت پر گملے میں انگور لگا سکتا ہوں؟

جی بالکل۔ کم از کم 18 انچ کا گملا، پوری دھوپ اور مضبوط فریم دیں، اور پانی یکساں دیں کیونکہ چھت کے گملے جلد سوکھ جاتے ہیں۔

انگور کی بیل کتنے عرصے میں پھل دیتی ہے؟

دوسری یا تیسری گرمی میں پہلے چند گچھوں کی امید رکھیں، اور تیسرے سال سے باقاعدہ فصل کی۔

میرے انگور کھٹے کیوں ہیں یا پھٹ کیوں جاتے ہیں؟

کھٹاس کی وجہ عموماً کم دھوپ، چھوٹی بیل پر ضرورت سے زیادہ گچھے، یا جلدی توڑائی ہوتی ہے؛ توڑنے کے بعد انگور مزید میٹھا نہیں ہوتا، اس لیے پہلے ایک دانہ چکھ لیں۔ پھٹنا پکنے کے دنوں میں بارش یا زیادہ پانی سے ہوتا ہے، سو پانی کم کریں اور برسات سے پہلے پھل اتار لیں۔

اپنے گھر کے انگور اگانے کا ارادہ ہے؟ ہم اپنی انگور کی بیل جلو موڑ، لاہور میں اپنے فارم پر خود اگاتے ہیں، اور اس کی قیمت 250 روپے ہے۔ ایک بیل محفوظ کروانے کے لیے بس واٹس ایپ پر ہمیں پیغام بھیجیں، پھر فارم سے خود لے جائیں یا لاہور میں کہیں بھی گھر منگوا لیں۔ مزید پھلوں کے لیے ہماری گائیڈ لاہور کے باغوں کے لیے پھل دار درخت پڑھیں، یا ہمارے پودے دیکھیں۔

تصویر: BerndtF, CC BY-SA 3.0, via Wikimedia Commons۔