جب کوئی ہمیں خالی پلاٹ دیتا ہے تو پودے سب سے آخر میں سوچے جاتے ہیں۔ جن ناکام باغوں کو درست کرنے ہمیں بلایا جاتا ہے، اُن میں سے تقریباً ہر ایک پہلے دو ہفتوں میں خراب ہوا تھا — کچھ سبز لگنے سے بھی پہلے۔

1۔ صفائی کریں اور پانی دیکھیں

ملبہ، جڑیں اور تعمیراتی فضلہ نکالیں — مزدور حیرت انگیز مقدار میں یہ سب دبا دیتے ہیں۔ پھر دیکھیں کہ دھلائی یا بارش کے بعد پانی کہاں کھڑا ہوتا ہے۔ وہی نشیبی جگہیں آپ کے پودے ڈبو دیں گی۔

2۔ زمین کی ڈھلوان بنائیں

گھر سے دور ہلکی ڈھلوان چاہیے، تقریباً ہر آٹھ فٹ پر ایک انچ۔ یہی ایک قدم لاہور کے باغوں میں پانی کھڑا ہونے کے زیادہ تر مسائل روک دیتا ہے۔

3۔ ایک بھی پودا خریدنے سے پہلے مٹی درست کریں

شہر کے زیادہ تر پلاٹوں میں بھاری چکنی مٹی یا تعمیراتی بھرائی ہوتی ہے۔ کیاریوں کے لیے کم از کم نو انچ اور درختوں کی جگہ ایک فٹ گہرائی تک گلی ہوئی گوبر کھاد اور بھل مٹی ملائیں۔

پہلے مہینے میں مٹی پر خرچ کیا پیسہ دوسرے سال پودے بدلنے سے بچا لیتا ہے۔

4۔ پہلے خاکہ طے کریں، پھر پودے

پلاٹ میں چل کر نشان لگائیں کہ لوگ اصل میں کہاں چلیں گے — گیٹ تک کا راستہ، کرسیاں کہاں رکھی جائیں گی، بچے کہاں کھیلیں گے۔ کیاریاں اس کے گرد بنتی ہیں، اُلٹا نہیں۔

زیادہ تر گھروں کے لیے موزوں ترتیب

  • درمیان میں کھلا لان تاکہ استعمال ہو سکے
  • حدود کی دیواروں کے ساتھ گہری کیاریاں تاکہ پردہ رہے
  • درخت کونوں میں تاکہ پورا لان سائے میں نہ آئے
  • گملے بیٹھک کے قریب، جہاں نظر بھی آئیں اور پانی بھی ملے

5۔ پودے لگانے سے پہلے پانی کا انتظام سوچیں

ابھی طے کریں کہ پائپ ہوگا، ڈرپ لائن ہوگی، یا ہر کونے میں ٹونٹی۔ بنے بنائے باغ میں بعد میں آبپاشی ڈالنے کا مطلب ہے ابھی لگائی گئی کیاریاں دوبارہ کھودنا۔

6۔ بڑے سے چھوٹے کی طرف لگائیں

  1. پہلے درخت — بعد میں انہیں ہٹانا سب سے مشکل ہے
  2. پھر جھاڑیاں اور باڑ
  3. لان یا زمین ڈھانپنے والے پودے
  4. آخر میں موسمی پھول اور گملے

فیصلہ کرنے سے پہلے ایک پورا موسم گزرنے دیں۔ اکتوبر میں ٹھیک طرح لگایا گیا باغ دسمبر میں معمولی لگتا ہے اور مارچ تک بالکل بدل جاتا ہے۔

اگر آپ خود کھدائی نہیں کرنا چاہتے تو یہی ہمارا کام ہے — ہمواری، مٹی، خاکہ اور پودے، خالی زمین سے مکمل باغ تک۔