آج کل لاہور کے کئی گھرانے ہم سے پوچھتے ہیں: "کیا میں اپنی سبزی خود گھر پر اگا سکتا ہوں؟" اور جس طرح ٹماٹر اور دھنیے تک کے دام آسمان کو چھو رہے ہیں، یہ سوال بالکل جائز ہے۔ سیدھا سا جواب ہے — جی بالکل۔ اپنی سبزی چھت پر، پچھلے صحن میں، یا بالکنی میں رکھے چند گرو بیگز میں اگا لینا، جسے ہم کچن گارڈننگ کہتے ہیں، آج کل تیزی سے مقبول ہو رہا ہے۔ اور مزے کی بات یہ کہ اس کے لیے نہ بڑی جگہ چاہیے، نہ کوئی تجربہ۔
کچن گارڈننگ ہے کیا؟
بات سیدھی سی ہے: سبزی بازار سے خریدنے کے بجائے اپنے گھر کے لیے خود اگا لینا۔ لاہور میں یہ عموماً یوں ہوتا ہے کہ دھوپ والی چھت پر چند گملے رکھ لیے، صحن میں ایک کیاری بنا لی، یا بالکنی کے جنگلے کے ساتھ دو چار گرو بیگ لگا دیے۔ دھنیے یا پودینے کا ایک تھیلا مہینے بھر میں اپنے پیسے پورے کر دیتا ہے، اور گرمیوں میں تو ٹماٹر اور مرچیں اتنی ہو جاتی ہیں کہ گھر والے کھاتے کھاتے تھک جائیں۔
ہمارے موسم میں کامیابی کا راز بس دو باتوں میں ہے: پودوں کو ٹھیک ٹھاک دھوپ ملے — پانچ چھ گھنٹے کافی ہیں — اور پانی کی نکاسی صحیح ہو۔ یہ دو باتیں سنبھل جائیں تو باقی سب کچھ خود ہی آسان لگنے لگتا ہے۔
کب کیا بوئیں — لاہور کے حساب سے
لاہور میں اگانے کے دو صاف صاف موسم ہیں۔ فصل کو اس کے اپنے موسم میں لگا دیں تو آدھا کام تو یہیں ہو جاتا ہے۔
سردیوں کی فصل (ربیع) — ستمبر کے آخر سے نومبر تک
- پالک، دھنیا اور میتھی — پتوں والی سب سے آسان شروعات
- مٹر، گاجر، مولی اور شلجم
- پھول گوبھی اور بند گوبھی — یہ عموماً پنیری لگا کر منتقل کی جاتی ہیں
- لہسن اور پیاز
گرمیوں کی فصل (خریف) — فروری مارچ میں، اور پھر جولائی کی برسات میں
- ٹماٹر اور مرچ — مرچ کی پنیری سردیوں میں ٹرے میں تیار کریں اور بہار میں لگا دیں
- بھنڈی، کھیرا اور بیل والی سبزیاں — گھیا، کریلا، کدو
- پودینہ، جو تقریباً سارا سال ہی چلتا رہتا ہے
ایک بات یاد رکھیں: مئی جون کی چلچلاتی گرمی میں نازک پنیری لگانے کی غلطی نہ کریں — دوپہر میں پارہ چالیس ڈگری کو چھوتا ہے اور ننھے پودے سیدھا جھلس جاتے ہیں۔ بہار کی فصل مارچ تک جما لیں، پھر جولائی کی برسات کا ٹھنڈا موسم آنے دیں۔
اور اگر آپ یہ اگست کے آخر میں پڑھ رہے ہیں تو سمجھ لیں کہ سردیوں کی تیاری کا عین وقت ہے — پھول گوبھی اور بند گوبھی کی پنیری آج ہی ڈال دیں، اور ستمبر اکتوبر میں پالک، مولی اور میتھی بوتے رہیں۔
شروعات کیسے کریں
گملے، گرو بیگ یا کیاری؟ چھت یا بالکنی کے لیے کپڑے والے گرو بیگ سب سے کام کے ہیں — ان میں پانی رکتا نہیں اور جڑیں صحت مند رہتی ہیں۔ ٹماٹر اور بیل والی سبزیوں کے لیے گہرے بیگ (بارہ انچ یا اس سے بڑے) لیں؛ دھنیے پودینے کے لیے چھوٹا گملا بھی چل جاتا ہے۔
گملے میں سیدھی باغ کی مٹی مت بھریں۔ لاہور کی مٹی بھاری اور چکنی ہے، گملے میں جا کر اینٹ بن جاتی ہے۔ دو حصے پوٹنگ یا باغ کی مٹی میں ایک حصہ گوبر یا کمپوسٹ اور مٹھی بھر ریت ملا لیں تاکہ پانی آرام سے نکلتا رہے۔ نیچے سوراخ والے اچھے گملے ہوں تو آدھی مشکل ویسے ہی ختم ہو جاتی ہے۔
دھوپ اور پانی۔ پودوں کو روز پانچ چھ گھنٹے سیدھی دھوپ لگنے دیں۔ گرمیوں میں دن میں ایک بار پانی کافی ہے — لیکن دینے سے پہلے انگلی مٹی میں ڈال کر دیکھ لیں۔ اگر نیچے نمی محسوس ہو تو رہنے دیں، ابھی ضرورت نہیں۔
عام غلطیاں جو اکثر دیکھنے کو ملتی ہیں
- ضرورت سے زیادہ پانی۔ پتے پیلے پڑ جائیں تو اکثر مطلب یہ ہوتا ہے کہ پانی زیادہ ہو گیا، کم نہیں۔ نکاسی کے سوراخ لازمی ہیں۔
- غلط موسم۔ گرمی والی سبزی سردی میں (یا سردی والی گرمی میں) لگا دیں تو پودا بس بیٹھا رہتا ہے، بڑھتا نہیں۔
- دھوپ کی کمی۔ سایہ دار بالکنی میں پودے کمزور اور لمبوترے رہ جاتے ہیں۔
چھوٹا شروع کریں — دھنیے کا ایک تھیلا، پودینے کا گملا، دو چار مرچ کے پودے — اور جیسے جیسے ہاتھ بیٹھتا جائے، بڑھاتے جائیں۔ جلدی شروعات کرنی ہو تو فارم پر ہمارے پاس تیار پنیری اور چھوٹے پودے موجود رہتے ہیں، ساتھ مٹی اور گملے بھی مل جاتے ہیں۔ اور سبزی کے ساتھ ساتھ پھل کا شوق ہو تو لیموں یا امرود کا پودا لاہور کے بڑے گملے میں خوب پھل دیتا ہے۔
عام سوالات
بالکل نیا بندہ سب سے پہلے کیا لگائے؟
دھنیا، پودینہ، ہری مرچ اور پالک۔ سستے بھی، جلدی تیار بھی، اور مرتے بھی مشکل سے ہیں۔
چھت کے باغ کو کتنی دھوپ چاہیے؟
کم از کم پانچ چھ گھنٹے سیدھی دھوپ؛ ٹماٹر جیسی پھل دینے والی سبزیوں کو تھوڑی زیادہ چاہیے۔
کیا لاہور کی گرمی میں واقعی سبزی اگ سکتی ہے؟
ہاں بالکل — بس فروری مارچ میں یا جولائی کی برسات میں بوئیں، اور مئی جون کی شدید گرمی میں پنیری لگانے سے بچیں۔