کریپنگ فگ (Ficus pumila) وہ ننھی سی بیل ہے جو لاہور کی دھوپ میں تپتی کسی خالی دیوار کو ہری چادر میں لپیٹ دیتی ہے۔ نہ تار چاہیے نہ رسی، یہ اپنی باریک ہوائی جڑوں سے اینٹ اور پلستر کو خود پکڑ لیتی ہے، اور اس کے ننھے دل نما پتے اتنے گھنے ہوتے ہیں کہ دیوار تقریباً چھپ جاتی ہے۔ ستون پر چڑھانی ہو، لٹکتے گملے میں لگانی ہو یا تار کے چھوٹے سے ڈھانچے پر شکل دینی ہو، یہ ہر جگہ خوش رہتی ہے۔
دیوار ہری کرنے کے لیے یہ کم خرچ، سدا بہار اور سخت جان بیل ہے، اور دیوار سے لگ کر اتنی سیدھی اور صاف رہنے والی بیلیں کم ہی ہیں۔ بس ایک بات شروع میں صاف کر دیں: اس کی چپکنے والی جڑیں جس چیز کو پکڑتی ہیں، اس پر نشان چھوڑ جاتی ہیں۔ نیچے وہی باتیں ہیں جو ہم فارم پر ہر گاہک کو کریپنگ فگ گھر لے جانے سے پہلے بتاتے ہیں۔
کریپنگ فگ کے دو روپ: ننھے پتوں والی بیل اور پختہ شاخیں
جو روپ سب کو چاہیے، وہ اس کا کم عمر روپ ہے: پتلی شاخیں دیوار سے بالکل چپکی ہوئی، اور پتے ناخن جتنے، مشکل سے 2 سے 3 سینٹی میٹر۔ بیل برسوں اسی حال میں رہ سکتی ہے۔
لیکن جس پرانی بیل کی تراش نہ ہو، اسے جب چڑھنے کے لیے مزید دیوار نہ ملے تو یہ سخت، لکڑی جیسی "پختہ" شاخیں نکالنے لگتی ہے جو دیوار سے باہر کو کھڑی رہتی ہیں۔ ان پر 10 سینٹی میٹر تک لمبے، موٹے چمڑے جیسے پتے آتے ہیں، اور کبھی کبھی ناشپاتی کی شکل کے چھوٹے انجیر بھی، جو بس دیکھنے کی چیز ہیں، پھل کی فصل نہیں۔ کھانے والا انجیر چاہیے تو ہماری انجیر اگانے کی گائیڈ دیکھیں۔
لاہور میں کریپنگ فگ کہاں لگائیں: دھوپ، گرمی اور سردی
کریپنگ فگ کو صبح کی دھوپ یا روشن چھاؤں پسند ہے: مشرق یا شمال رخ دیوار، برآمدے کا ستون، یا صحن کی وہ دیوار جس پر دوپہر کے بعد سایہ آ جائے۔ مغرب رخ دیوار پر ذرا سوچ کر لگائیں۔ مئی جون میں یہ ساری سہ پہر تپتی ہے اور رات گئے تک گرم رہتی ہے، اور اس پر ننھے پتے جھلس کر بھورے ہو جاتے ہیں۔ مغربی دیوار ہی ہو تو وہ حصہ چنیں جہاں شام کو کسی درخت یا عمارت کا سایہ آتا ہو، اور پانی ذرا زیادہ دیں۔
سردی کی زیادہ فکر نہ کریں۔ جڑ پکڑی ہوئی بیل لاہور کا جاڑا آرام سے نکال لیتی ہے۔ ہاں، جنوری کی کسی ٹھہری ہوئی رات کا ہلکا پالا چھوٹے پودے کی نرم کونپلیں جلا سکتا ہے، خاص کر کھلی چھت پر رکھے گملے میں۔ سب سے سرد ہفتہ دو ہفتے ایسے گملے برآمدے میں کر دیں۔
لگانے کا وقت فروری کے آخر سے مارچ تک ہے، یا برسات کے بعد ستمبر کے آخر سے اکتوبر تک۔ دیوار کے ساتھ لگانا ہو تو پودا دیوار کی جڑ سے تقریباً ایک فٹ (30 سینٹی میٹر) ہٹ کر لگائیں، جہاں مٹی اتنی سوکھی نہیں ہوتی، اور شاخوں کو دیوار کی طرف جھکا دیں۔
دیوار پر چڑھانے سے پہلے ایک سچی بات
اس کی ہوائی جڑیں دیوار پر صرف ٹکتی نہیں، بلکہ ایک چپچپا رس چھوڑتی ہیں جو سوکھ کر سخت ہو جاتا ہے اور جڑ کو دیوار سے جوڑ دیتا ہے۔ اسی لیے یہ اتنی اچھی چڑھتی ہے، مگر اس کے کچھ نتیجے بھی ہیں:
- یہ پینٹ اور پلستر سے چپک جاتی ہے، اور بعد میں اتاریں تو پینٹ اور اوپر کی تہہ بھی ساتھ اکھڑ آتی ہے۔
- جڑوں کے بھورے نشان رہ جاتے ہیں جو رگڑنے سے بھی مشکل سے جاتے ہیں۔
- جڑیں دراڑوں اور اینٹوں کے بیچ پرانے مسالے میں گھس جاتی ہیں، اس لیے جس دیوار کا پلستر پہلے ہی ڈھیلا ہو یا سیم ہو، وہاں مسئلہ بڑھ سکتا ہے۔
سیدھی بات یہ ہے کہ اسے ایسی دیوار پر لگائیں جس کی آپ کو زیادہ فکر نہ ہو، جیسے اینٹ کی یا سادہ پلستر والی چاردیواری یا کوئی ستون۔ گھر کے سامنے والے تازہ پینٹ شدہ حصے پر نہیں، جس پر دو چار سال بعد پھر رنگ ہونا ہے۔ ہریالی چاہیے مگر نشان نہیں، تو دیوار سے چند سینٹی میٹر ہٹا کر لوہے کی جالی یا ٹریلس لگا دیں اور بیل اس پر چڑھائیں۔ دونوں صورتوں میں اسے کھڑکیوں، پرنالوں، اے سی کے باہر والے یونٹ، بجلی کی تاروں اور چھت کے کنارے سے دور رکھیں۔
پانی، مٹی، گملا اور کھاد
- گرمیاں (مئی، جون): دیوار کے ساتھ زمین میں لگی بیل کو ہفتے میں دو تین بار گہرا پانی دیں، کیونکہ دیوار کی تپش مٹی جلدی سکھا دیتی ہے۔ گملے کو روز پانی چاہیے، اور کھلی چھت پر کبھی دن میں دو بار۔ پانی صبح سویرے یا سورج ڈھلنے کے بعد دیں۔
- برسات (جولائی تا ستمبر): پہلے مٹی دیکھ لیں، اکثر بارش ہی کافی ہوتی ہے، اور پانی جڑ کے پاس کھڑا نہ رہنے دیں۔
- سردیاں (دسمبر تا فروری): بڑھوتری تقریباً رک جاتی ہے۔ زمین والی بیل کو 7 سے 10 دن بعد پانی دیں، اور گملے کو تب جب اوپر کی 2 سے 3 سینٹی میٹر مٹی سوکھ جائے۔
مٹی کے معاملے میں یہ نخرے نہیں کرتی، بس پانی نکلتا رہے۔ گملے کے لیے دو حصے باغ کی مٹی، ایک حصہ گلی سڑی کمپوسٹ یا پرانی گوبر کی کھاد اور ایک حصہ موٹی ریت ملا کر 10 سے 12 انچ کے سوراخ والے گملے میں لگائیں؛ چھت پر پوری دیوار ڈھانپنی ہو تو لمبا ٹب یا بڑا گملا لیں۔ فروری مارچ میں اور پھر اکتوبر میں جڑ کے گرد مٹھی بھر کمپوسٹ ڈال دیں۔ ہاتھ ذرا ہلکا رکھیں: زیادہ کھاد کا مطلب ہے زیادہ تراش۔ چھت پر گملوں کی باغبانی کی تفصیل ہماری چھت اور بالکونی کی باغبانی والی گائیڈ میں ہے۔
تراش اور قلمیں
تراش ہی کریپنگ فگ کو باریک اور دیوار سے چپکا ہوا رکھتی ہے، ورنہ یہ بھاری اور لکڑی جیسی ہو جاتی ہے۔ مارچ سے اکتوبر تک ہر ڈیڑھ دو مہینے بعد تیز قینچی سے ہلکی سی تراش کر دیا کریں:
- جو شاخیں کھڑکی، پرنالے، تاروں یا چھت کے کنارے کی طرف جا رہی ہوں، انہیں کاٹ دیں۔
- باہر نکلی سخت پختہ شاخیں وہاں سے کاٹیں جہاں وہ اصل تنے سے نکلتی ہیں۔
- بیل سامنے سے پھول کر باہر آنے لگے تو برابر کتر دیں، جلد ہی ننھے پتوں سے پھر بھر جائے گی۔
تراشتے وقت دستانے پہن لیں، کیونکہ کٹی شاخ سے دودھیا رس نکلتا ہے۔ نئے پودے بنانے ہوں تو جوان شاخ کے 10 سے 15 سینٹی میٹر کے ٹکڑے کاٹیں، نیچے کے پتے اتاریں، اور مٹی اور ریت کے نم آمیزے میں گاڑ کر سائے میں رکھ دیں۔ گرم موسم میں چند ہفتوں میں جڑیں نکل آتی ہیں، روٹنگ پاؤڈر کی ضرورت نہیں۔
کیڑے، عام مسائل اور حفاظت کی ایک بات
- ملی بگ اور اسکیل: پتوں کے جوڑوں میں سفید روئی جیسے گچھے، یا شاخوں پر چپکے بھورے دانے۔ اسپرٹ میں بھیگی روئی سے صاف کریں، یا جب تک ختم نہ ہوں، ہر ہفتے نیم کے تیل کا ہلکا اسپرے کریں۔
- سوکھے، کرکرے بھورے پتے: تیز دھوپ یا سوکھی مٹی، اور عموماً دونوں۔ پانی گہرا دیں اور سہ پہر کا سایہ کریں۔
- پتوں کا جھڑنا: اپنی رشتہ دار وِیپنگ فگ کی طرح یہ بھی جگہ بدلنے، ٹھنڈ لگنے یا ہر وقت گیلی مٹی سے روٹھ جاتی ہے۔ اسے ایک جگہ ٹکا دیں اور دو پانیوں کے بیچ مٹی کو ذرا سوکھنے دیں۔
ہر فِکس کی طرح اس کا دودھیا رس بھی جلد پر خارش کر سکتا ہے، اور رس لگی جلد تیز دھوپ میں آ جائے تو تکلیف بڑھ سکتی ہے، اس لیے فوراً دھو لیں۔ جانوروں کی فلاح کی امریکی تنظیم ASPCA انجیر (فِکس) کے پودوں کو بلیوں اور کتوں کے لیے زہریلا بتاتی ہے؛ پتے چبانے سے رال بہہ سکتی ہے، منہ میں جلن یا الٹی ہو سکتی ہے۔ عموماً یہ سنگین نہیں ہوتا، مگر لٹکتے گملے پالتو جانوروں اور چھوٹے بچوں کی پہنچ سے اونچے رکھیں، اور کوئی جانور زیادہ کھا لے تو ویٹ سے رابطہ کریں۔ فِکس کے رس کے بارے میں مزید ہماری وِیپنگ فگ گائیڈ میں ہے، اور پالتو جانوروں کے لیے محفوظ انڈور پودوں کی فہرست بھی موجود ہے۔
عام سوالات
کیا کریپنگ فگ دیوار خراب کرتی ہے؟
زیادہ تر نقصان سطح کو ہوتا ہے: یہ پینٹ اور پلستر سے چپک جاتی ہے، جڑوں کے ایسے نشان چھوڑتی ہے جو مشکل سے صاف ہوتے ہیں، اور پہلے سے موجود دراڑوں میں گھس جاتی ہے۔ اسے اینٹ پر، ایسی دیوار پر جس پر دوبارہ پینٹ نہیں کرنا، یا دیوار سے ذرا ہٹ کر لگی جالی پر چڑھائیں۔
کریپنگ فگ کتنی تیزی سے بڑھتی ہے؟
شروع میں آہستہ۔ باغبان کہتے ہیں کہ پہلے سال یہ سوتی ہے، دوسرے سال رینگتی ہے اور تیسرے سال چھلانگیں لگاتی ہے، کیونکہ شروع میں یہ جڑیں بنا رہی ہوتی ہے۔ اس کے بعد لاہور کی گرمیاں اسے خوب دوڑاتی ہیں، اور دو تین سال میں یہ دیوار کا اچھا خاصا حصہ ڈھانپ لیتی ہے۔
کیا کریپنگ فگ گملے میں یا گھر کے اندر لگ سکتی ہے؟
جی بالکل۔ چھاؤں والی بالکونی میں لٹکتے گملے میں خوب چلتی ہے، اور گھر کے اندر کسی روشن کھڑکی کے پاس بھی، بس اے سی کی سیدھی ہوا سے دور رکھیں۔ مٹی ہلکی نم رکھیں، خشک موسم میں پتوں پر چھڑکاؤ کریں، اور تراش کر اپنی مرضی کے سائز میں رکھیں۔
کریپنگ فگ کو دیوار سے کیسے چپکائیں؟
اسے کھردری سطح دیں، جیسے اینٹ، بغیر پینٹ کا پلستر یا کنکریٹ، کیونکہ چکنے چمکدار پینٹ پر اس کی پکڑ مشکل سے بنتی ہے۔ جوان شاخوں کو چند ہفتے ماسکنگ ٹیپ یا چھوٹے کلپوں سے دیوار کے ساتھ لگائے رکھیں، اور خشک موسم میں دیوار ذرا نم رکھیں، جب تک جڑیں پکڑ نہ لیں۔
ہم کریپنگ فگ جلو موڑ، لاہور میں اپنے فارم پر خود اگاتے ہیں، اور اچھی جڑوں والا جوان پودا 100 روپے کا ہے۔ اسے کریپنگ فگ کے صفحے پر دیکھیں، پھر اپنا پودا رکھوانے کے لیے واٹس ایپ پر ہمیں پیغام بھیجیں۔ فارم سے خود لے جائیں یا لاہور میں کہیں بھی ڈیلیوری منگوا لیں، اور ساتھ ہی ہمارے پودے بھی دیکھ لیں۔
تصویر: Los Angeles, CC BY-SA 3.0, via Wikimedia Commons۔






