لاہور کی سردیوں میں اندرونی پودوں کی دیکھ بھال کا سارا راز ایک بات میں ہے: کم کریں۔ نومبر کے آخر سے فروری تک آپ کا منی پلانٹ، ربڑ پلانٹ اور پام تقریباً بڑھنا ہی چھوڑ دیتے ہیں۔ دن چھوٹے ہیں، دھند اور اسموگ رہی سہی دھوپ بھی کھا جاتی ہے، راتیں ٹھنڈی ہیں، اور ہیٹر کمرے میں گرم خشک ہوا پھینکتا رہتا ہے۔ سردیوں میں زیادہ تر پودے اس لیے بگڑتے ہیں کہ ہم ان کی خدمت گرمیوں والے طریقے سے ہی کرتے رہتے ہیں۔

یہ ہماری لاہور کی گرمیوں میں اندرونی پودے زندہ رکھنے والی گائیڈ کا سردیوں والا حصہ ہے؛ بنیادی باتوں کے لیے ہماری اندرونی پودوں کی دیکھ بھال والی گائیڈ دیکھ لیں۔ یہاں صرف وہ باتیں ہیں جو ٹھنڈ آتے ہی بدل جاتی ہیں۔

لاہور کی سردی پودوں کے لیے الگ کیوں ہے

  • چھوٹے دن۔ دسمبر جنوری میں دن کی روشنی بس دس گھنٹے کے قریب رہ جاتی ہے، اور سورج بھی نیچا ہی رہتا ہے۔
  • دھند اور اسموگ۔ نومبر سے جنوری تک کئی کئی دن شہر پر سرمئی دھند چھائی رہتی ہے؛ دوپہر کو بھی پوری روشنی نہیں ملتی اور پتوں پر گرد جم جاتی ہے۔
  • ٹھنڈی راتیں۔ جنوری کی راتیں عموماً 6 ڈگری کے آس پاس رہتی ہیں، سردی کی لہر میں 2 سے 4 ڈگری تک گر جاتی ہیں، اور کسی کسی سال ہلکا پالا بھی پڑ جاتا ہے۔ زیادہ تر اندرونی پودے گرم علاقوں کے ہیں اور 10 ڈگری سے نیچے تکلیف میں آنے لگتے ہیں۔
  • ہیٹر۔ یہ کمرہ تو گرم کر دیتے ہیں مگر ہوا خشک کر دیتے ہیں، اور صبح تک کمرہ پھر ٹھنڈا ہو جاتا ہے۔

تو پودا آرام کرنے لگتا ہے: پانی کم پیتا ہے، بڑھتا نہ ہونے کے برابر ہے اور بس بہار کا انتظار کرتا ہے۔ سردیوں کی اچھی دیکھ بھال اسی آرام کا ساتھ دیتی ہے، اس سے لڑتی نہیں۔

سردیوں میں اندرونی پودوں کی دیکھ بھال: سات سنہری اصول

1۔ پانی بہت کم کر دیں

سردیوں میں سب سے زیادہ پودے زیادہ پانی سے مرتے ہیں۔ آرام کرتا پودا ٹھنڈی مٹی میں بہت تھوڑا پانی لیتا ہے؛ جو گملا جون میں تین دن میں سوکھ جاتا تھا، وہ جنوری میں دو ہفتے گیلا پڑا رہ سکتا ہے، اور ٹھنڈی گیلی مٹی جڑیں گلا دیتی ہے۔ پہلے انگلی ڈال کر دیکھیں، اوپر کی چند سینٹی میٹر مٹی سوکھی ہو تب ہی پانی دیں، فالتو پانی نکلنے دیں اور پلیٹ خالی کر دیں۔ پانی صبح کے وقت دیں، اور نل کا یخ پانی نہیں بلکہ وہ پانی جو کچھ دیر کمرے میں رکھا رہا ہو۔

2۔ سب سے روشن کھڑکی انہیں دے دیں

پودوں کو گھر کی سب سے روشن کھڑکی کے پاس لے آئیں، جو عموماً جنوب یا مشرق والی ہوتی ہے۔ سردیوں کی دھوپ نرم ہے، اس لیے جو پودے گرمیوں میں شیشے سے پیچھے رکھے تھے وہ اب اس کے قریب بیٹھ سکتے ہیں۔ ہر ہفتے گملا ذرا سا گھما دیں تاکہ پودا سیدھا بڑھے، اور ہر دو ہفتے بعد گیلے کپڑے سے پتوں پر جمی اسموگ کی تہہ صاف کر دیں۔ آپ کا فلیٹ سارا سال ہی کم روشن رہتا ہو تو ہماری کم روشنی والے اندرونی پودے والی گائیڈ دیکھیں۔

3۔ ہیٹر اور ٹھنڈی ہوا، دونوں سے بچائیں

پودوں کو ہیٹر سے ایک دو میٹر دور رکھیں اور اس کی گرم ہوا کے رخ پر تو بالکل نہیں، ورنہ چند دن میں پتوں کے کنارے جھلس جاتے ہیں۔ دن بھر کھلنے بند ہونے والے دروازے اور درزوں والی کھڑکی کی ٹھنڈی ہوا سے بھی بچائیں۔ رات کو شیشہ بہت ٹھنڈا ہو جاتا ہے، اس لیے پتے اس سے نہ لگنے دیں؛ سب سے ٹھنڈی راتوں میں کھڑکی والے پودے کمرے کی طرف کھسکا دیں، تاکہ وہ پردے کی گرم طرف رہیں۔

4۔ نومبر سے فروری تک کھاد بند

جو پودا بڑھ ہی نہیں رہا، وہ کھاد کا کیا کرے گا؟ بچی ہوئی کھاد کے نمکیات مٹی میں جمع ہو کر الٹا جڑیں جلا دیتے ہیں۔ آخری کھاد اکتوبر میں دیں، اور مارچ میں نئے پتے نکلتے دیکھیں تو پھر شروع کریں۔

5۔ گملا بدلنا بہار تک چھوڑ دیں

ٹھنڈ میں جڑیں تقریباً بڑھتی ہی نہیں، اس لیے جنوری میں گملا بدلیں تو پودا نئی گیلی مٹی میں بیٹھا رہ جاتا ہے، اور یہیں سے جڑیں سڑنے لگتی ہیں۔ مارچ کے آس پاس تک رکیں، سوائے اس کے کہ گملے میں نیچے سوراخ ہی نہ ہو یا جڑیں پہلے سے گل رہی ہوں۔

6۔ ملی بگ اور اسپائیڈر مائٹ پر نظر رکھیں

یہ دونوں کیڑے گرم، خشک، ہیٹر والے کمروں میں خوب پلتے ہیں۔ ملی بگ پتوں کے جوڑوں میں سفید روئی کے ننھے گچھوں جیسے دکھتے ہیں؛ اسپرٹ میں بھگوئی کاٹن بڈ سے انہیں اتار دیں۔ اسپائیڈر مائٹ پتوں پر باریک ہلکے نقطے اور بعد میں باریک سا جالا چھوڑتے ہیں؛ پانی میں ذرا سا مائع صابن ملا کر پتے، خاص طور پر نیچے سے، دھوئیں اور جب تک ختم نہ ہوں ہر پانچ سات دن بعد دہراتے رہیں۔

7۔ بالکونی اور برآمدے کے گملے سخت راتوں میں بچائیں

دسمبر کے آخر سے پورے جنوری تک ہماری راتیں بار بار 10 ڈگری سے نیچے جاتی ہیں، جو نازک پودوں کی برداشت سے باہر ہے، اس لیے کروٹن، کورڈیلائن، سنگونیم اور منی پلانٹ رات کو اندر لے آئیں۔ گملا بھاری ہو اور ہلتا نہ ہو تو دھوپ والی دیوار کے ساتھ لگا دیں، ٹھنڈے فرش سے اٹھا کر اینٹ یا تختے پر رکھ دیں، اور رات کو پرانی سوتی چادر اوڑھا دیں، پلاسٹک ہرگز نہیں۔

ہر پودے کی سردیوں والی ضرورت

جو اندرونی پودے ہم اپنے فارم پر اُگاتے ہیں، لاہور کی سردی میں ان کا خیال یوں رکھیں:

  • منی پلانٹ: سب سے کم نخرے والا۔ روشن جگہ رکھیں اور دو پانیوں کے بیچ اوپر کی مٹی سوکھنے دیں؛ ٹھنڈی گیلی مٹی ہی اس کی اصل دشمن ہے۔
  • سنگونیم اور سنگونیم 'وائٹ بٹرفلائی': 15 ڈگری سے اوپر خوش رہتے ہیں، اس لیے انہیں گھر کا سب سے گرم روشن کمرہ دیں۔
  • ربڑ پلانٹ: اب اکثر تین چار ہفتے میں ایک بار پانی کافی ہے۔ اس کے بڑے پتوں سے اسموگ کی گرد صاف کرتے رہیں۔
  • کورن پلانٹ (ڈریسینا): ٹھنڈی ہوا اسے جلدی لگتی ہے، اور 10 ڈگری سے نیچے اس کے پتے خراب ہونے لگتے ہیں۔ اسے دروازے سے دور ہی رکھیں۔
  • کروٹن (گولڈ ڈسٹ): اسے ٹھنڈ سے سچ مچ چڑ ہے۔ چند گھنٹے 10 ڈگری سے نیچے رہ جائے تو راتوں رات پتے گرا دیتا ہے، اس لیے گھر کی سب سے گرم اور روشن کھڑکی اسی کو دیں۔
  • ویری گیٹڈ وِیپنگ فگ: جگہ بدلیں یا ٹھنڈ لگے تو پتے گرا دیتا ہے۔ یہ اس کی عادت ہے، گھبرائیں نہیں: ایک روشن جگہ چن کر وہیں ٹکا دیں، چند ہفتوں میں نئے پتے آ جائیں گے۔
  • چھتری پودا (شیفلیرا): سخت جان ہے، مگر جڑیں ٹھنڈی اور گیلی رہیں تو پتے جھاڑنے لگتا ہے، اس لیے دو پانیوں کے بیچ مٹی سوکھنے دیں۔
  • ایریکا پام: گملا ٹھنڈے ماربل یا ٹائل کے فرش سے اوپر اٹھا دیں، پانی کم دیں، اور ہیٹر سے دور رکھیں ورنہ پتوں کی نوکیں بھوری ہو جاتی ہیں۔
  • ریڈ کورڈیلائن: 10 ڈگری سے نیچے چند ہی دن میں پتوں پر ٹھنڈ کا اثر دکھنے لگتا ہے۔ بالکونی سے اندر لے آئیں اور روشن جگہ دیں تاکہ اس کا سرخ رنگ قائم رہے۔

ایک احتیاط: منی پلانٹ، سنگونیم، کروٹن، کورن پلانٹ، شیفلیرا اور کورڈیلائن چبا لیے جائیں تو منہ اور پیٹ میں جلن کر سکتے ہیں، اور وِیپنگ فگ اور ربڑ پلانٹ کا دودھیا رس جلد پر خارش کر سکتا ہے۔ گھر کے اندر انہیں پالتو جانوروں اور چھوٹے بچوں کی پہنچ سے دور رکھیں۔ ان میں ایریکا پام پالتو جانوروں کے لیے محفوظ ہے؛ مزید ہماری پالتو جانوروں کے لیے محفوظ اندرونی پودے والی گائیڈ میں دیکھیں۔

سردی کی تکلیف کی نشانیاں اور علاج

  • نیچے کے پتے پیلے، مٹی ہر وقت گیلی: ٹھنڈ کے حساب سے پانی زیادہ ہے۔ اوپر کی مٹی سوکھنے دیں، نیچے کا سوراخ دیکھ لیں اور پلیٹ خالی کر دیں۔
  • اچانک پتے جھڑنا: ٹھنڈی ہوا، ٹھنڈا شیشہ یا حال ہی میں جگہ کی تبدیلی۔ پودے کو ایک روشن، پکی جگہ پر ٹکا کر انتظار کریں؛ "مدد" کے لیے پانی مت ڈالیں۔
  • پودا ڈھلک جائے: مٹی چھو کر دیکھیں۔ گیلی ہے تو جڑیں مشکل میں ہیں، اسے سوکھنے دیں؛ بالکل سوکھی ہے، خاص طور پر ہیٹر کے پاس، تو پودا واقعی پیاسا ہے۔
  • ٹھنڈی رات کے بعد کالے یا پانی بھرے دھبے: ٹھنڈ کا نقصان۔ پودا اندر لے آئیں اور مرے ہوئے حصے بہار میں کاٹ دیں۔

عام سوالات

سردیوں میں اندرونی پودوں کو کتنی بار پانی دیں؟

کوئی مقررہ دن نہیں، بس تب پانی دیں جب اوپر کی چند سینٹی میٹر مٹی سوکھ جائے۔ لاہور کے دسمبر جنوری میں یہ اکثر دس دن سے تین ہفتے میں ایک بار بنتا ہے، باقی یہ پودے، گملے اور روشنی پر منحصر ہے۔

سردیوں میں میرا پودا پتے کیوں گرا رہا ہے؟

عموماً ٹھنڈ کا جھٹکا، چاہے دروازے کی ہوا ہو، ٹھنڈا شیشہ یا بالکونی پر گزری رات، یا پھر جگہ بدلنے کا اثر؛ کروٹن اور وِیپنگ فگ اس معاملے میں سب سے نازک ہیں۔ پودے کو ہوا سے بچی کسی روشن جگہ ٹکا دیں، پانی زیادہ نہ دیں، بہار میں نئے پتے آ جائیں گے۔

کیا پودے ہیٹر والے کمرے میں رکھ سکتے ہیں؟

جی ہاں، بس ہیٹر سے ایک دو میٹر دور ہوں اور اس کی گرم ہوا ان پر سیدھی نہ پڑے۔ ہیٹر ہوا خشک کر دیتا ہے، اس لیے پودے پاس پاس رکھیں اور اسپائیڈر مائٹ کے لیے ذرا زیادہ دھیان رکھیں۔

کیا سردیوں میں اندرونی پودے خریدنا ٹھیک ہے؟

جی ہاں۔ ہمارے پودے یہیں لاہور میں پلے بڑھے ہیں، بس گھر لا کر آرام سے بٹھانا ہے: راستے میں ٹھنڈی ہوا سے بچانے کو لپیٹ لیں، مارچ تک نرسری والے گملے میں ہی رہنے دیں، اور ہیٹر سے دور کسی روشن جگہ رکھیں۔ پہلے چند ہفتوں میں ایک آدھ پتا گرے تو یہ عام بات ہے۔

اس سردی کے لیے آسان اندرونی پودے چاہییں تو منی پلانٹ (750 روپے) سے شروع کریں، جو ہم اپنے فارم پر بڑی تعداد میں اُگاتے ہیں، یا سنگونیم (100 روپے) لے لیں؛ دونوں نئے شوقین کی غلطیاں بھی معاف کر دیتے ہیں۔ کسی روشن کونے کے لیے ربڑ پلانٹ (700 روپے) ایک مضبوط انتخاب ہے۔ پودا محفوظ کروانے کے لیے واٹس ایپ پر ہمیں پیغام بھیجیں، پھر جلو موڑ، لاہور میں ہمارے فارم سے خود لے جائیں یا لاہور میں کہیں بھی ڈیلیوری منگوا لیں۔ باقی جو کچھ ہم اُگاتے ہیں، وہ ہمارے پودے والے صفحے پر دیکھ لیں۔

تصویر: Øyvind Holmstad, CC BY-SA 4.0, via Wikimedia Commons۔