لوگ فروری میں فارم پر آ کر پوچھتے ہیں کہ اُن کے گلاب پھول کیوں نہیں دے رہے۔ سچ یہ ہے کہ عموماً پودا سال کے غلط وقت میں زمین میں لگایا گیا ہوتا ہے۔

لگانے کا صحیح وقت

لاہور میں گلاب زمین میں لگانے کا بہترین وقت اکتوبر کے وسط سے نومبر کے آخر تک ہے، جب گرمی ٹوٹ جائے مگر مٹی ابھی گرم ہو۔ جڑیں ہلکی سردی میں جم جاتی ہیں اور بہار آتے ہی پودا پھول دینے کے لیے تیار ہوتا ہے۔

دوسرا موقع فروری ہے، مگر ایسے پودے ہمیشہ ایک موسم پیچھے رہتے ہیں۔

کیاری صحیح تیار کریں

گلاب زیادہ نخرے نہیں کرتا، مگر خراب نکاسی ہرگز برداشت نہیں کرتا۔ کیاری ڈیڑھ فٹ گہری کھودیں اور اچھی گلی ہوئی گوبر کھاد بھل مٹی کے ساتھ ملائیں۔ اگر گڑھے میں پانی ایک گھنٹے سے زیادہ کھڑا رہے تو کیاری اونچی کریں۔

  • جھاڑی دار گلاب دو فٹ کے فاصلے پر لگائیں
  • پیوند کا جوڑ مٹی کی سطح سے ذرا اوپر رکھیں
  • لگاتے وقت خوب پانی دیں، پھر اوپر کی مٹی خشک ہونے دیں

کانٹ چھانٹ ہی پھول لاتی ہے

یہیں زیادہ تر شوقین حضرات ہاتھ روک لیتے ہیں۔ جس گلاب کی کبھی کٹائی نہ ہو وہ لمبا، لکڑی جیسا پودا بن جاتا ہے جس کی چوٹی پر تین پھول ہوتے ہیں۔

دسمبر کے آخر یا جنوری کے پہلے ہفتے میں سخت کٹائی کریں۔ پودے پر چار پانچ صحت مند شاخیں چھوڑیں، ہر کٹ باہر کی طرف والی کلی کے اوپر سے۔ دیکھنے میں سخت لگے گا۔ آٹھ ہفتوں میں پودا نمو سے بھر جائے گا۔

جس گلاب کو کاٹنے سے آپ ڈرتے ہیں، وہی گلاب پھول نہیں دے گا۔

موسم بھر خوراک

  1. کٹائی کے بعد: ایک مٹھی گوبر کھاد اوپری مٹی میں ملا دیں
  2. نئی شاخیں نکلیں تو: ہر تین ہفتے بعد متوازن کھاد
  3. اپریل کے آخر تک، شدید گرمی سے پہلے، کھاد بند کر دیں

عام غلطیاں

جڑوں کے بجائے پتوں پر پانی ڈالنے سے کالے دھبوں کی بیماری آتی ہے۔ آدھے سائے میں لگانے سے پتے ملتے ہیں پھول نہیں — گلاب کو کم از کم پانچ گھنٹے سیدھی دھوپ چاہیے۔ اور مرجھائے پھول پودے پر چھوڑنا اسے رکنے کا اشارہ دیتا ہے؛ انہیں پانچ پتوں والے پتے کے اوپر سے توڑ دیں، پودا چلتا رہے گا۔

ہم موسم بھر دیسی گلاب، انگریزی اقسام اور بیل دار گلاب رکھتے ہیں۔ اکتوبر میں تشریف لائیے، ہم آپ کی کیاری کے لیے موزوں انتخاب میں مدد کریں گے۔