چاندنی کا پودا (کریپ جیسمین، Tabernaemontana divaricata) لاہور میں اُگانے کے لیے سب سے آسان پھولدار جھاڑیوں میں سے ہے۔ اس کے چمکدار گہرے سبز پتے سارا سال رہتے ہیں، اور بہار سے برسات اور پھر خزاں تک اس پر پھرکی جیسے سفید پھول آتے رہتے ہیں۔ بس سردی کے سب سے ٹھنڈے ہفتوں میں یہ ذرا سستا لیتی ہے۔ نام بھی خوب ہے: شام ڈھلے گہرے پتوں کے بیچ اس کے سفید پھول سچ مچ چاندنی کی طرح جگمگاتے ہیں۔

ہم جلو موڑ میں اپنے فارم پر چاندنی خود اُگاتے ہیں، اور پہلی بار پودے لگانے والوں کو بلا جھجک یہی بتاتے ہیں۔ ایک آدھ دن پانی بھول جائیں تو برا نہیں مانتی، کٹائی خوشی سے سہتی ہے، اور جم جانے کے بعد زیادہ کچھ نہیں مانگتی۔ نیچے لاہور کے پورے سال کا حساب لکھ دیا ہے۔

چاندنی ہے کیا، اور یہ اصل جیسمین کیوں نہیں

چاندنی جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا کی سدا بہار جھاڑی ہے جو پاکستان اور بھارت کے باغوں میں ہر جگہ ملتی ہے۔ اکہرے پھول کی پانچ پنکھڑیاں ذرا سی مڑی ہوتی ہیں، بالکل بچوں کی پھرکی کی طرح۔ دوہرے پھول والی قسم اکثر 'Flore Pleno' کے نام سے ملتی ہے۔ اس کی پنکھڑیاں جھالر دار ہوتی ہیں، جیسے سلوٹوں والا کریپ کاغذ، اور کریپ جیسمین کا نام اسی سے پڑا۔ خوشبو ہلکی اور میٹھی ہے، شام کو سب سے زیادہ، اور دن کی گرمی میں شاید پتا بھی نہ چلے۔ تو اسے اصل چیز نہیں، ساتھ کا تحفہ سمجھیں۔ اگر آپ کو خوشبو ہی چاہیے تو ہماری خوشبودار پودوں کی گائیڈ دیکھ لیں۔

نام میں جیسمین ضرور ہے، مگر یہ جیسمین ہے ہی نہیں۔ موتیا جیسی اصل جیسمین زیتون کے خاندان سے ہیں، جبکہ چاندنی کنیر والے خاندان (Apocynaceae) سے ہے۔ اسی خاندان کے کئی پودوں کی طرح اس کا پتا توڑیں تو دودھیا رس نکلتا ہے۔ گجرے والی تیز خوشبو چاہیے تو وہ موتیا ہے۔ اور اگر ان سفید پھولوں میں سے ایک چننا ہو تو ہمارا موتیا، چنبیلی، رات کی رانی اور چاندنی کا موازنہ پڑھ لیں۔

کہاں لگائیں: اکیلی جھاڑی، باڑ یا گملا

  • اکیلی جھاڑی: گیٹ کے پاس، کھڑکی کے نیچے یا لان کے کونے میں، جہاں شام کو سفید پھول فوراً نظر آئیں۔
  • کھلی، غیر رسمی باڑ: چاردیواری کے ساتھ، پودے دو سے تین فٹ کے فاصلے پر لگائیں اور ہلکی ہلکی تراش کرتے رہیں۔ اس سے ڈبے جیسی سخت باڑ نہیں بلکہ نرم سی، پھولوں والی اوٹ بنتی ہے۔ ساتھ لگانے کو اور جھاڑیاں ہماری لاہور کے لیے پھولدار جھاڑیاں اور باڑ والی گائیڈ میں دیکھیں۔
  • بڑا گملا: برآمدے، چھت یا بالکونی پر۔ تھوڑی سی کٹائی سے یہ گٹھی ہوئی رہتی ہے۔

لگانے کا بہترین وقت فروری سے اپریل ہے، یا پھر برسات کے بعد ستمبر اکتوبر، تاکہ گرمی یا سردی آنے سے پہلے جڑیں جم جائیں۔

لاہور کے موسموں میں چاندنی کے پودے کی دیکھ بھال

دھوپ: پوری دھوپ سے ہلکے سائے تک، اور چار سے چھ گھنٹے سیدھی دھوپ سب سے اچھی۔ مئی جون میں بالکونی تندور بن جاتی ہے، تو گملے کو صبح کی دھوپ اور سہ پہر کو تھوڑا سایہ مل جائے تو کیا ہی بات ہے۔ گہرے سائے میں پودا ہرا تو رہتا ہے مگر پھول بہت کم دیتا ہے۔

پانی: مٹی ہلکی نم رہے، کیچڑ نہ بنے:

  • مئی جون: گملے کو عموماً روز پانی چاہیے، صبح سویرے یا شام کو۔ زمین والے پودے کو ہفتے میں دو تین بار گہرا پانی دیں۔
  • برسات (جولائی سے ستمبر): پانی تب ہی دیں جب اوپر کی ایک انچ مٹی سوکھ جائے، اور تیز بارش کے بعد دیکھ لیں کہ گملے سے پانی نکل رہا ہے۔
  • سردی (دسمبر جنوری): پانی کم کر دیں، گملے کو پانچ سات دن بعد دینا کافی ہے۔

سردی اور پالا: یہ گرم علاقوں کی جھاڑی ہے اور پالا اسے بالکل پسند نہیں۔ زمین میں جما ہوا پودا عموماً لاہور کی سردی نکال لیتا ہے، زیادہ سے زیادہ چند پتے جھلستے ہیں۔ اصل خطرہ چھوٹے پودوں اور گملوں کو ہے۔ دسمبر جنوری کی سب سے ٹھنڈی راتوں میں گملے دھوپ والی دیوار کے ساتھ یا برآمدے کے نیچے کر دیں، اور جس رات پالا پڑنے کا ڈر ہو، زمین والے چھوٹے پودوں پر ہلکا سا کپڑا ڈال دیں۔ سردی میں پھول کم ہو جاتے ہیں یا رک جاتے ہیں، اور مارچ میں پھر شروع ہو جاتے ہیں۔

مٹی، گملا اور کھاد

کوئی بھی زرخیز مٹی چلے گی، بس پانی نہ رکے۔ گملے کے لیے باغ کی مٹی، گلی سڑی کمپوسٹ یا گوبر کی کھاد، اور تھوڑی سی دریائی ریت ملا لیں۔ چھوٹا پودا 10 سے 12 انچ کے گملے میں شروع کریں اور بڑا ہونے پر 16 سے 18 انچ کے گملے میں منتقل کر دیں۔ نیچے سوراخ ہر حال میں ہونا چاہیے؛ سائز اور مٹیریل کے لیے ہماری صحیح گملا چننے کی گائیڈ کام آئے گی۔ مارچ سے اکتوبر تک مہینے ڈیڑھ بعد مٹھی بھر کمپوسٹ ڈالیں، یا پھولدار پودوں کی متوازن کھاد ہر چار سے چھ ہفتے بعد دیں۔ سردیوں میں پودا آرام کرتا ہے، تو کھاد بند کر دیں۔

کٹائی، اور قلم سے نئے پودے

چاندنی کٹائی کو خوب سہتی ہے۔ پھولوں کا ہر دور ختم ہونے کے بعد لمبی شاخیں چند انچ کاٹ دیں، پتوں کے کسی جوڑے کے ذرا اوپر سے۔ ہر کٹ سے دو تین نئی شاخیں پھوٹتی ہیں، اور جتنی زیادہ شاخیں، اتنے زیادہ پھول۔ اصل شکل فروری کے آخر یا مارچ میں دیں۔ نومبر سے جنوری تک سخت کٹائی نہ کریں، ورنہ نئی کونپلیں سردی کی زد میں آ جائیں گی۔

قلم سے نیا پودا بنانا آسان ہے:

  1. گرم اور مرطوب مہینوں میں (برسات سب سے اچھی ہے) کسی صحت مند شاخ سے، جس پر پھول نہ ہوں، 4 سے 6 انچ کا ٹکڑا کاٹیں۔
  2. نیچے کے پتے اتار دیں، اوپر دو تین رہنے دیں۔ دودھیا رس جلد کو تنگ کر سکتا ہے، تو دستانے پہن لیں یا بعد میں ہاتھ دھو لیں۔
  3. نم، ریتلے مکسچر والے چھوٹے گملے میں گاڑ کر روشن سائے میں رکھ دیں۔ عموماً تین چار ہفتے میں جڑیں نکل آتی ہیں۔

کیڑے، عام مسئلے اور ایک احتیاط

  • میلی بگ: پتوں کے جوڑوں میں روئی جیسے سفید گچھے۔ اسپرٹ میں بھیگی روئی سے صاف کریں، یا ہر ہفتے نیم کا تیل اسپرے کریں۔
  • سفید مکھی: پودے کو ہاتھ لگائیں تو ننھی سفید مکھیاں اُڑتی ہیں، اور پتے چپچپے اور پھیکے پڑ جاتے ہیں۔ پتوں کے نیچے نیم کا تیل یا ہلکا صابن والا پانی اسپرے کریں۔
  • بڑی ہری سنڈیاں: برسات میں آتی ہیں۔ یہ اولینڈر ہاک موتھ کی سنڈیاں ہیں، وہی جو کنیر کھاتی ہیں۔ ہاتھ سے چن کر ہٹا دیں۔
  • پیلے پتے: زیادہ تر زیادہ پانی یا بند سوراخ کی نشانی ہیں، تو مٹی کو ذرا سوکھنے دیں۔ نیچے کے ایک آدھ پرانے پتے کا پیلا ہونا عام بات ہے۔
  • پھول کم: تقریباً ہمیشہ سایہ زیادہ ہوتا ہے، پودے کو زیادہ دھوپ والی جگہ پر لے جائیں۔

احتیاط: چاندنی میں دودھیا رس اور کچھ الکلائیڈز ہوتے ہیں، اس لیے یہ کھانے کی چیز نہیں۔ کتا یا بلی پتے چبا لے تو منہ میں جلن، رال یا الٹی ہو سکتی ہے، بچہ چبا لے تو پیٹ خراب ہو سکتا ہے، اور رس حساس جلد پر خارش کر سکتا ہے۔ گھبرانے کی بات نہیں: گملے چھوٹے بچوں اور چبانے والے جانوروں کی پہنچ سے دور رکھیں، کٹائی کے بعد ہاتھ دھو لیں، اور اگر شک ہو کہ کسی نے کچھ نگل لیا ہے تو ڈاکٹر یا جانوروں کے ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔ گھر میں پپی یا بلونگڑا ہو تو ہماری پالتو جانوروں کے لیے محفوظ پودوں والی گائیڈ میں بے ضرر انتخاب مل جائیں گے۔

عام سوالات

کیا چاندنی اور موتیا ایک ہی پودا ہے؟

نہیں۔ موتیا (Jasminum sambac) اصل جیسمین ہے، اس کی خوشبو کہیں تیز ہے اور گجرے اسی کے بنتے ہیں۔ چاندنی دوسرے خاندان سے ہے اور اس میں دودھیا رس ہوتا ہے۔

کیا چاندنی میں خوشبو ہوتی ہے؟

جی ہاں، ہلکی اور میٹھی سی۔ یہ شام اور رات کو سب سے زیادہ ہوتی ہے، اس لیے چاندنی وہاں لگائیں جہاں آپ مغرب کے بعد بیٹھتے ہیں۔

کیا چاندنی سردیوں میں پھول دیتی ہے؟

بہت کم۔ لاہور میں یہ بہار سے خزاں تک سب سے زیادہ پھول دیتی ہے، دسمبر جنوری میں پھول روک دیتی ہے یا بہت کم کر دیتی ہے، اور مارچ میں موسم گرم ہوتے ہی پھر شروع ہو جاتی ہے۔

کیا بالکونی پر گملے میں چاندنی لگ سکتی ہے؟

جی بالکل۔ کم از کم 12 انچ کا سوراخ والا گملا لیں، چار سے چھ گھنٹے دھوپ دیں اور سخت گرمی میں روز پانی دیں۔

چاندنی کا پودا کتنا بڑا ہو جاتا ہے؟

بغیر کٹائی کے یہ 5 سے 8 فٹ تک جا سکتا ہے اور تقریباً اتنا ہی پھیلتا ہے، مگر پھولوں کے ہر دور کے بعد ہلکی تراش سے 3 سے 5 فٹ پر رہتا ہے۔ گملے میں عموماً 3 سے 4 فٹ تک رہتا ہے۔

ہم چاندنی جلو موڑ، لاہور میں اپنے فارم پر خود اُگاتے ہیں۔ چاندنی (کریپ جیسمین) کا ایک پودا 250 روپے کا ہے۔ فارم سے خود لے جائیں، یا ہم لاہور میں کہیں بھی پہنچا دیتے ہیں۔ پودا رکھوانا ہو یا پوچھنا ہو کہ اس ہفتے کیا کھلا ہوا ہے، تو واٹس ایپ پر ہمیں پیغام بھیجیں، یا پہلے ہمارے سارے پودے دیکھ لیں۔

تصویر: SKsiddhartthan, CC BY-SA 4.0, via Wikimedia Commons۔